یاتری

جوں جوں گھر قریب آرہا تھا سفر کی تھکان آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی. ٹرین کی کھڑکی سے نظریں جما کر باہر دیکھتے ہوئے اپنائیت کا احساس ہولے ہولے بڑھ رہا تھا. یہ کھیت، دور افق کے پار درختوں کا جھنڈ، ریل کی پٹڑیوں کے پاس کھیلتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچے، جن کے تن پر ڈھانپنے کو کپڑے تو نہ تھے پر چہرے پہ سجی ہوئی مسکراہٹ روح کی سیرابی کا واضح نشان تھی. اسٹیشن اب زیادہ دور نہیں تھا، ٹرین کے چلنے کی رفتار دھیمی ہو چکی تھی، ایسے میں یہ بچے مسافروں کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہہ رہے تھے، اور کچھ شریر شاید مسافروں کو طرح طرح کی شکلیں بنا کر دکھا رہے تھے.

کتنے عرصے بعد گھر لوٹا تھا میں – ایسے لگتا تھا جیسے شاید صدیاں، یا شاید اس سے بھی زیادہ. اس عرصے میں آدھے جہان کی خاک چھانی تھی، کتنے انواع واقسام کے لوگوں سے ملا تھا، کتنی دلفریب یادیں اکٹھی کیں تھیں. زندگی نے ِاس وقت میں مجھے کتنا مختلف بنا دیا تھا، جب ِادھر سے روانہ ہوا تھا تو شاید بہت بزدل تھا، اب مجھ میں حالات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ تھا. جب اجنبی ملکوں کی دکانوں میں کوئی چیز پسند آتی، فوراً کسی کو تحفه دینے کی نیت سے خرید لیا کرتا۔ کتنا اچھا لگ رہا تھا کہ اب میں یہاں تحفے تقسیم کروں گا، کتنا اچھا لگے گا یہ کام کرتے ہوئے، کتنا خوش ہوں گے سب.

اب کی بار جو کھڑکی سے جھانکا تو پلیٹ فارم کی اک مبہم سی تشبیہ بنی ہوئی تھی. کتنے ہی لوگوں سے سنا تھا کہ گھر جانے کا احساس زندگی کا ایک ایسا احساس ہے جس کا کوئی ثانی نہیں. جنگ میں مورچہ زن فوجی ہو، یا سمندر میں سفر کرتا ملاح، سب کی دھڑکن اور سانسیں گھر کے احساس سے قائم رہتی ہیں ۔ ایک آس رہتی ہے، ان چوباروں میں واپس جانے کی آس جو اپنے ہیں، جہاں جنگ نہیں، جہاں سفر نہیں، جہاں محبت کی کلیاں کھلتی ہیں.

ڈبے میں موجود مسافروں کی بےچینی بڑھ چکی تھی. سوئے ہوئے بچے جاگ کر اب ہر طرف اودھم مچا رہےتھے. ماؤں کی کوشش تھی کہ ان کو سنبھال لیں لیکن وہ انکی سرزنش کے باوجود اپنی شرارتوں میں مگن تھے. ساتھ والی سیٹ پر ایک ماں اپنی بچی کو ڈانٹ رہی تھی، ‘تیری عمر میں میری شادی ہو چکی تھی اور تجھ سے سامان نہیں سمیٹا جاتا’. بچی کی طرف دیکھا تو کوئی دس سال کی لڑکی پریشان بیٹھی ایک مہیب قسم کی پوٹلی کو بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی. سامان کچھ اس بے ہنگم طریقے سے پھیلا ہوا تھا کہ جتنا وہ اس کو سمیٹنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی وہ مزید بکھر جاتا. دل کیا کے جاؤں اور اس کی مدد کروں لیکن پھر رک گیا. پتہ نہیں خاتون کیا سمجھیں گی.

 اسٹیشن اب اتنا نزدیک آ چکا تھا کہ چھابڑی والوں کی شکلیں واضح دکھ رہیں تھیں. ان کے چہروں پر نئے گاہکوں کو دیکھنے کی خوشی واضح جھلک رہی تھی. وہ نوجوان جو دروازے پر کب سے قبضہ کیے ہوئے تھے رینگتی ہوئی ٹرین سے چھلانگیں لگا لگا کر اتر رہے تھے. ٹرین کا قیام چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہمیشہ اترنے اور سوار ہونے والے مسافروں میں کشتی ہوا کرتی تھی. اپنے بھاری بھرکم سفری سامان کی طرف دیکھا، دل میں سوچا کہ اب اس دھکم پیل میں شامل ہو جانا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ اترنے میں پھر دشواری ہو. ایک آخری ہلکی سی نگاہ اس خاتون پر ڈالی جو ابھی بھی اپنی بچی پر گرج برس رہیں تھیں اور بچی سہمی ہوئی اس گٹھری کو سمیٹنے میں لگی ہوئی تھی.

گرچہ ابھی صبح ہی تھی لیکن سورج شدت سے چمک رہا تھا. اتنی گرمی تھی کہ مجھے افریقہ کے صحرا یاد آ گئے. کتنے سنسان ہوتے ہیں صحرا، روح تک پھیل جاتی ہے ان صحراؤں کی ویرانی . ادھر صحراؤں کی ویرانی، ادھر انسانوں کا ہجوم. ٹرین رک چکی تھی. دھکم پیل کے ایک مختصر سے امتحان کے بعد بالآخر اسٹیشن پر اترنا نصیب ہوا. نظریں اٹھائیں تو دیکھا بےتہاشہ افراد میری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں. سب شناسا چہرے. سب میرے اپنے. ابھی مجھے سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا اور سب مجھ سے بغلگیر ہو گئے. سب ہنس رہے تھے، مسکرا رہے تھے. آدھوں کو تو پہلی نظر میں پہچانا ہی نہیں پھر رفتہ رفتہ سب رشتے واضح ہونے لگے.

بھائی ناراض تھے کہ میں گھر نہیں آتا، دور سے تحفے تحائف دے کر غائب ہو جاتا ہوں. ایسی بھی کیا لاپرواہی، مگر میں ہنس دیا. ‘اب تو آ گیا ہوں نا’، ان سے کہا تو انہوں نے ایک فلک شگاف قہقہ لگایا، ”ہاں، آ تو گئے ہو اور اب ہم تمہیں جلدی جانے بھی نہیں دیں گے. اس دفعہ ایسی بیڑیاں ڈالیں گے کہ تم یہیں کے ہو کر رہ جاؤ گے’.

اسٹیشن سے گاؤں تک کا سارا سفر باہر کے نظارے دیکھنے میں کٹا. یہ وہی رستے ہیں جن پر اک عمر گزری تھی. وہی سڑکیں جو کبھی میری اپنی ہوا کرتی تھیں. یہ جگہ جو میری کائنات تھی، جو ابتدا تھی، جو انتہا ہے. پینتیس منٹ کے سفر میں جانے کیا باتیں ہوئیں، جانے میں نے کیا کہا، جانے میں نے کیا سنا. بس ایک احساس، اپنوں کے ساتھ ہونے کا احساس، روح کی شرساری کا احساس.

گھر پہنچے تو سب پہلے سے ہی مورچہ سنبھالے دروازے کے ساتھ لگے بیٹھے تھے. بےجی نے گلے سے لگایا، بڑی آپا نے پیار سے کان کھینچے، خالہ نے پہلے تو ملنے سے انکار کیا پھر گلے لگا کر اتنا روئیں کے اپنے ساتھ ساتھ میری قمیض بھی آنسو آنسو کر دی. بڑی مشکل سے جب انہیں چپ کرایا اور قمیض دکھا کر شکایت کی کہ دیکھیں آپکے آنسوؤں نے قمیض گیلی کر دی تو کہنے لگیں، ‘پگلے اس سے اندازہ لگا کہ تیری یاد میں کتنے آنسو بہائیں ہیں تیری خالہ نے’، اس بات پر پھر انہوں نے گلے لگا لیا اور رونے کے سلسلے کی دوسری قسط شروع ہو گئی.

محبتوں کے رشتے بھی کیسے خوشگوار ہوتے ہیں. گھنے درختوں کی طرح. ساون کی بارش کی طرح. سردیوں کی دھوپ کی طرح. ہر لحظہ اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے. دوری میں مایوسی مٹاتے ہوئے. قربت میں مسکراہٹیں سجاتے ہوئے.

بڑوں سے فرصت ملی تو بچوں کی فوج نے گھیر لیا. سب کتنا بدل گئے تھے، کچھ وہ بھی تھے جن سے یہ پہلی ملاقات تھی. جی میں آیا سب کو بولوں کتنے بڑے ہو گئے ہو تم سارے. ننھے منے سے تھے جب میں یہاں ہوتا تھا پر خیال آیا کہ اسی بات سے بڑ ل چڑ کر بہت سے بزرگوں کو ملنے سے کتراتا تھا. بچوں کے چہرے کتنے نکھرے نکھرے سے ہوتے ہیں. زندگی کی مشکلات سے دور. معصومیت سے بھرپور. آنکھوں میں خواب سجائے، حالات کی قید سے آزاد، وقت کے پنجرے سے ناآشنا – مسرور اور خوبصورت.

سامان میں جتنی بھی چاکلیٹ تھیں، نکال لایا، سب کو دیں، خوب ادھم مچایا. باغ میں جا کر پکڑن پکڑائی کھیلے تو مالی بابا کی تازہ تازہ بنائی کیاریوں میں گھس گئے. دور کھڑے مالی بابا نے پہلے تو منع کیا، پھر خود بھی شامل ہو گئے. پرندوں کی چہچہاہٹ، دھیمی دھیمی سہ پہر کی مدھر ہوا، بچوں کے قہقہے – ایسا دلربا سماں باندھا کے کچھ دیر کو لگا جیسے ہم سب رستہ بھول کر کسی پرستان میں پہنچ گئے ہیں.

شام کی چائے شروع ہوئی تو باتوں کا سلسلہ ایسا نکلا کہ کھانے کے وقت تک باتیں چلتی رہیں. خالہ کے شکوے. آپا کی شکایت. محبت میں لپٹی شکایت کی چاشنی بھی حیرت انگیز چیز ہے. کھانے کے میز پر مجھے بیٹھنے کے لیے بھی وہی کرسی دی گئی جو مجھے پسند تھی. بچپن میں اس کرسی پر بیٹھنے کے لیے لڑائیاں ہوا کرتی تھیں. تاش کی بازیاں سجا کرتیں، لڈو کے مقابلے ہوتے، تب کہیں جا کر جیتنے والے کو یہ کرسی نصیب ہوتی. آج پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی گئی تو بڑا عجیب محسوس ہوا.

کھانے کے بعد چائے کا دور چلا تو سب نے دالان میں کرسیاں بچھائیں اور وہیں بیٹھ گئے.  ایک چارپائی بھی تھی، میں بےجی کے پہلو میں چارپائی پر براجمان سب کی توجہ کا مرکز بنا بیٹھا تھا. ہلکی ہلکی چاندنی میں لپٹا ہوا دالان اور ہلکی ہلکی ہوا. فوارے کے پاس بھولے بھٹکے دو تین جگنو اٹھکیلیاں کرتے پھر رہے تھے. خالہ کے بقول آج مجھے سونے کی اجازت نہیں تھی. بہت رت جگوں کا حساب دینا تھا. میں مسکرا پڑا. ‘خالہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر جاگنے والوں کے دل اتنے چھوٹے نہیں ہوتے کہ وہ فوراً بدلہ لینے پر اتر آئیں’، میں نے انہیں چڑایا. اس بار وہ مسکرا پڑیں۔ ‘آج خوش ہوںے کا دن ہے. مسکراہٹیں بانٹنے کا دن ہے. ایسی دلفریب رات میں اداس باتیں نہیں کیا کرتے’، شاید یہ ابو تھے، یا پھوپا، یا خالو، یا بھیا، یا شاید کوئی اور – جہاں اتنی محبت بھری آوازیں جمع ہو جائیں وہاں اس سے کیا غرض کے بولنے والا کون ہے.

ایک بدلی چاند کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے میں مصروف تھی. کبھی ادھر سے آتی کبھی ادھر سے، میں بےجی کی گود میں سر رکھ کر اسے اسے دیکھنے میں محو تھا. شروع سے ہی چاند کو تکتے رہنا بہت پسند تھا. کمرے کی کھڑکی ایسی تھی کی چاندنی راتوں میں چاند پوری رات اس سے نظر آتا رہتا. بےجی کو اس عادت کا پتہ تھا، وہ چاندنی راتوں میں پردے خود ٹھیک کرنے آیا کرتی تھیں. میں تکیے پہ سر رکھ کے لیٹا چاند کو تک رہا ہوتا، وہ اپنی شفیق مسکراہٹ سے کہا کرتیں تھیں کہ بس بہت دیکھ لیا چند، اب سو جاؤ، صبح اٹھا نہیں جانا. کتنا یقین ہوتا تھا میرے لہجے میں جب کہتا، نہیں، آج نہیں سوؤں گا بس. آج چاند کو غروب کر کے ہی نیند کی وادی میں اتروں گا. ایسا کبھی ہوتا نہیں تھا، ذرا سی دیر میں آنکھ لگ جاتی اور پھر خبر نہ رہتی.

ابھی باتیں چل ہی رہیں تھیں کہ آنی کی آواز نے چونکایا، ‘تم سے کوئی ملنے آیا ہے’،

‘کون؟’ حیران ہو کر دیکھا تو ننھی سی گڑیا موافق بچی کھڑی تھی. آنی نے اس بچی کی طرف اشارہ کیا اور کہا، ‘کتنی شکل ملتی ہے نا اسکی صبا سے، ہوبہو اپنی ماں کی تصویر ہے. یاد ہے نا تجھے صبا، تیرے بچپن کی دوست’۔ ‘آنی آپ بھی نا’، میں بولا، ‘اتنی پرانی بات ہے اب مجھے کیا یاد ہونا صبا کون تھی اور کون نہیں’۔ ‘ویسے تم نا بہت ہی جلدی لوگوں کو بھول جاتے ہو’، اس دفعہ خالہ نے کہا. اثبات میں سر ہلا کر میری توجہ پھر اس بچی کی جانب ہو گئی.

‘صبا نے تمہارے لئے گاجر کا حلوہ بنا کربھیجا ہے، آئی ہوئی ہے ادھر ہی چھٹیوں پر، جب پتہ لگا کہ تم آئے ہوئے ہو تو بہت خوش ہوئی تھی، کل جا کر مل آنا اس کو، ہمیشہ کی طرح سستی مت برتنا’ بڑی آپا نے کہا۔ ‘ اور فیا الحال اس سے ملو، یہ اس کی بیٹی یے’۔ اس گڑیا سی لڑکی کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی رکابی رکھی تھی جس پر انتہائی قسم کے برتن میں گاجر کا حلوہ رکھا تھا۔ اس سے رکابی پکڑ کر سائیڈ پر رکھ دی اورساتھ بٹھا لیا۔ ساری جیبیں ٹٹول ڈالیں تو ایک چھوٹی سی چا کلیٹ بمشکل برآمد ہوئی۔ زیادہ تو پہلے ہی بچوں کو بانٹ چکا تھا۔

‘یہ میں نہیں لوں گی’۔ اس نے دھیرے سے کہا۔ ‘کیوں’۔’ امی منع کرتی ہیں اتنی دیر سے میٹھا کھانے سے، کہتی ہیں پھر رات میں نیند ٹھیک نہیں آتی’۔ ‘کھا لو، اگر امی کچھ کہیں تو ان کو میرا کہہ دینا کہ میں نے زبردستی کھلا دئے’۔ اس کی معصوم سی آنکھیں ایک لحظے کو چمک اٹھیں اور شکریه ادا کرتے ہوئے اس نے چاکلیٹ پکڑ لئے۔ پھر وہ باغ میں فوارے کے پاس جگنوؤں کا پیچھا کرنے والے بچوں میں شامل ہو گئ. تھوڑی دیر ایسے ہی بیٹھ کر میں نیند کا بہانہ کر کے اٹھنے میں کامیاب ہو ہی گیا.

بستر پر لیٹا تو ایسے لگا جیسے دماغ میں مچنے والی ہلچل سے دم گھٹ جائے گا۔ وہ تمام باتیں  جن کو سوچ کی اتھا گہرائیوں میں دفنا کے رکھا تھا سب آہستہ آہستہ امنڈ کر آ ں​ تھیں۔ کھڑکی کی طرف دیکھا تو پردہ بھی نیم وا تھا۔ ساتھ والی کوٹھی اسکا ٹمٹماتا بلب، دور چاند، سب کچھ ویسے کا ویسا ہی تو تھا۔ وقت بدلا تھا، زمین نے اپنے مدار کے کئ چکر مکمل کئے تھے، کائنات اپنی جگہ سے کہاں جا چکی تھی۔ لیکن میں آج پھر اس ہی مقام پر کھڑا تھا جہاں میں بری طرح بکھرا تھا۔ دماغ میں یادوں کا سلسلہ ایسے چلنے لگا جیسے کوئی​ فلم۔ یہ ان دنوں کی بات تھی جب مجھے بارشوں سے ڈر لگا کرتا تھا۔ پتا نہیں کیوں بارشوں میں جہاں سب بچے کھیلا کودا کرتے وہاں میں سمٹ سمٹا کے اپنے کمرے میں دبک جاتا۔ آپا کی الماری سے کوئی​ جاسوسی ناول نکال لانا اور اسکو چپ کرکے پڑھتے رہنا۔ آج بھی ایک موٹا تازہ ناول نکالا ہوا تھا اور پڑھنے کی ناکام کوشش ہو رہی تھی۔  دور سے سب بچوں کے کھیلنے کی آواز آ رہی تھی لیکن باہر جانے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ دل للچا بھی رہا تھا اور خوف کی زنجیر سے بندھا بھی ہوا تھا۔ دعا ہو رہی تھی بارش رک جائے اور میں بھی انکے ساتھ کھیلوں۔ ناول بھی کچھ خشک تھا اور دل میں خیال تھا کہ پتا نہیں کیسے اتنے موٹے موٹے ناول لکھ لیتے ہیں یہ مصنف۔ “تم باہر آؤ گے یا میں تمہاری کھڑکی سے اندر آؤں؟” یہ صباء تھی ہمیشہ کی طرح ہر الٹے کام میں ملوس۔ شدید بارش میں بھیگتی ہوئی وہ کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی اور میری جانب گھور رہی تھی۔ “مجھے باہر نہیں آنا بس۔” “اچھا یہ بات ہے؟” اتنا کہہ کر وہ کھڑکی کے ساتھ زور آزمائی​ میں مصروف ہو گئی۔ ہماری کوٹھی انگریزوں کے زمانے کی تھی اور ساخت میں بہت پرانی تھی۔ کھڑکیوں اور دروازوں میں کنڈیاں محض سجاوٹ کے لئے تھیں۔ ہم دونوں ہی اس بات سے واقف تھے اور میں پرخوف آنکھوں سے اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا۔

تھوڑی سی جدو جہد کے بعد وہ کھڑکی کھولنے میں کامیاب ھو کر خوں خوار نظروں سے مجھے گھورنے میں مصروف تھی۔ “اب آتے ہو تم باہر یا میں گیلے کپڑے لے کر اندر آؤں اور بعد میں تمہیں بے جی سے ڈانٹ پڑے۔” یہ ایسی دھمکی تھی کے میرا انکار کرنا مشکل ہو گیا۔ چار و ناچار اٹھنے میں ہی عافیت جانی۔ “اتنا بزدل نہیں ہونا چاہیے انسان کو۔” اسنے ہنستے ہوئے طعنہ لگایا۔ “آؤ باہر، میرا ہاتھ پکڑ لینا اگر تمہیں بارش سے ڈر لگے تو۔” “نہیں مجھے نہیں پکڑنا تمہارا ہاتھ شاتھ۔” میں بولا اور کھڑکی پھلاند کر اسکے ساتھ پرچھّتی کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ “اب اگر تم نے اتنی محنت کرلی ہے تو تھوڑی محنت اور کرو اور بے جی کے کمرے سے جا کر کچھ کاغذ اٹھا لاؤ فوارے کے حوض میں بہت پانی ہے کشتیوں کی ریسیں لگا رہے ہیں سب بچے ہم دونوں بھی لگائیں گے۔” اسنے خوشی خوشی کہا۔ یہ ایک نئ افتاد تھی لیکن ایک بار پھر میں اسکے کہے کو ٹال نہ سکا۔ بے جی کے کمرے سے کاغذ​ اٹھاتے ہوئے مکمل احساس تھا کہ آج رات بہت زیادہ ڈانٹ پڑے گی۔ ھم نے کاغذ کی کشتیاں بنائیں، بارش میں نہائے۔ زندگی میں پہلی بار میں اسطرح بےوقوفی سے بارش کی بوندوں کو اپنے جسم پر گرنے دے رہا تھا۔ آم کے پیڑ تلے آندھی کی وجہ سے بہت سے آدھے کچے آدھے پکے آم گرے تھے۔ میرا گلا اکثر خراب رہتا تھا اس لئیے کچی کیریوں سے دور ہی رہتا تھا لیکن وہ کیریوں کی شدید شوقین تھی، کیونکہ اب سب ہی بچے ان پر ٹوٹے پڑ رہے تھے سو مجھے بھی خود پر قابو رکھنا مشکل ہوا اور ان میں شامل ہو گیا۔ کھٹی کیریاں، شدید بارش، پانی کے گھاس میں جگہ جگہ تالاب اور ڈھیر سارے بچے۔

جب بارش رکی تو شام ہو چکی تھی. جس طرح  چپکے سے وہ آئی تھی اس ہی طرح خاموشی سے غائب بھی ہو گئی. بے جی نے جب دیکھا کہ میں بارش میں نہا کر آیا ہوں تو بہت خوش ہوئیں. گود میں بیٹھایا، ڈھیر سارا پیار کیا. جب انہیں بولا کہ بے جی آپ کے کپڑے گیلے ہو جائیں گے تو کہنے لگیں، “بیٹا تو نے آج زندگی میں خود سے ہی اپنے خوف کا مقابلہ کیا ہے، اب تو جوان ہے میری نظروں میں، آج مجھے اپنے کپڑے گیلے

ہونے کی کوئی فکر نہیں.”

وہ اور بات ہے کہ کچی کیریاں کھانے کی وجہ سے میری طبیعت بگڑ گئی. گلا خراب، کھانسی، زکام کچھ اس طرح اچانک سے ہوا کہ رات بھر سو نہ سکا. ڈاکٹر صاحب کو رات گئے بلایا گیا، پہلے تو انھوں نے لمبا سا لیکچر دیا، پھر کڑوی کسیلی دوائیوں کی اتنی طویل فہرست پکڑا دی کہ زندگی عذاب لگنے لگی. بے جی ساری رات سرہانے بیٹھی رہیں مگر مجال ہو جو ان کے ماتھے پر ایک شکن بھی ابھری ہو. ساری رات سر دباتی رہیں، شاید بخار بھی تھا تو گیلی پٹیاں بھی بدلتی رہیں.

دو تین دن بہت بخار رہا، ایک رات کو بخار میں آنکھ کھلی تو دیکھا وہ کھڑکی میں کھڑی ہے.پہلے پہل تو چونک گیا، پھر لگا جیسے شاید خواب ہے، حقیقت کا احساس تو تب ہوا جب وہ چپکے سے اندر آ کر سرہانے بیٹھ گئی. اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اس نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا. کتنی اداس سی لگ رہی تھی وہ. مجھے رات کے اندھیرے میں برآمدے تک جاتے ڈر لگتا تھا اور وہ اپنے گھر سے دیوار ٹاپ کر ہمارے گھر پہنچ گئی تھی. “میری وجہ سے تم بیمار ہو گئے ہو، آئندہ نہیں کہوں گی تمہیں بارش میں نہانے کو.” شاید میں بولنا چاہتا تھا، بتانا چاہتا تھا کہ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں پر اس نے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا. تھوڑی دیر ایسے ہی بیٹھ کر وہ چلی گئی. اپنے ساتھ ایک گلاب کا چھوٹا سا پھول لے کر آئی تھی. میرے سرہانے رکھ گئی. کتنا ہی عرصہ اس پھول کو زندہ رکھنے کی کوشش کی، پانی ڈال کر گلاس میں رکھے رکھا، اس پانی میں ڈسپرن کی گولی ڈالی پر ایک دن وہ مرجھا ہی گیا. پھر اس کو سب سے پسندیدہ کتاب میں رکھ دیا. اکثر رات کو سونے سے پہلے کتاب کھول کر اس سوکھے ہوئے پھول کو دیکھا کرتا.

پھر دن بدل گئے. ہم بچے نہیں رہے. بڑے ہو گئے. شروع میں وہ مجھ سے لمبی دکھتی تھی. پھر میں نے قد کاٹھ نکالا تو سب حیران ہی رہ گئے. ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد صبح کالج جانے کو اٹھا تو کالج کی شرٹ پوری نہ آئی، بازو چھوٹے پڑ گئے. بے جی سے شکایت کی تو کہنے لگیں کہ تو لمبا ہو گیا ہے، قمیص بھی ٹھیک سے دھلی ہے اور سکڑی بھی نہیں. “ایک ہفتہ میں کون لمبا ہوتا ہے.” میں نے کہا تھا. “تم ہو گئے ہو لمبے ایک ہفتہ میں.” انھوں نے مسکرا کر کہا تھا. کچھ سچ بھی تھا، کچھ نہیں بھی لیکن اس کے بعد میرا قد ایسا نکلنا شروع ہوا کہ ابو سے بھی دو انچ اوپر ہی پہنچ گیا. پڑھائی میں تو میرا دل پہلے بھی کم لگتا تھا، کالج آ کر تو بالکل ہی شوق ختم ہو گیا. کبھی ادھر آوارہ گردی، کبھی ادھرـ کھیلوں کے ہر قسم کے مقابلے میں شامل, مشاعرے ہیں تو ان میں بھی نام، ڈرامہ ہے تو ادھر بھی، غرضیکہ پڑھائی کے علاوہ ہر طرف. جتنا میں غیر سنجیدہ ہو رہا تھا، اتنا ہی اس کی سنجیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا. پہلے اس کو چھیڑا کرتا تھا کہ اس کے نمبر کم تھے، اب وہ میرا مذاق اڑایا کرتی. شاید ہی کوئی امتحان ہو جس میں مَیں پاس ہوں اور شاید ہی کوئی امتحان ہو جس میں وہ اول نہ آتی. سب ہنستے تھے مجھ پر کہ میں نے اپنا دماغ اس کے ساتھ تبدیل کر لیا ہے. ایک دن شدید دوپہر میں اس کے گھر سے بلاوا آیا. معلوم ہوا کہ اس کے کالج کا کوئی ٹرپ تھا جو یہاں سے کوئی دس پندرہ میل دور گیا ہوا تھا اور شام میں ان کے گھر مہمان آنے تھے. ٹرپ کی واپسی کا ٹائم کچھ ایسا تھا کہ وہ ٹرپ کے ساتھ واپس آتی تو مہمانوں سے ملاقات نہ ہو پاتی. کچھ مصروفیت ایسی تھی کہ ان کے گھر کا کوئی بھی فرد فارغ نہیں تو اس کو ادھرسے واپس لانے کا قرعہ میرے نام نکلا تھا. غصہ تو بہت سخت آیا کہ اتنی گرمی میں مَيں ہی کیونکر نواب ذادی جی کے لیے دس پندرہ میل دور جاؤں پر انکار کرنا بھی مناسب محسوس نہ ہوا. کوئی بہانہ بھی تو نہیں تھا کہ انکار کرتا، سو مجبوراً ہامی بھرنی ہی پڑی.

جب اسکو لینے پہنچا تو عجیب ہڑبونگ کا عالم تھا. ہر طرف دوپٹے ہی دوپٹے، اور شدید گرمی جس میں سب ہی چہرے دوپٹوں میں چھپائے پھر رہے تھے. ایک لڑکی پر شبہ ہوا کے شاید یہ وہ ہو، پاس جا کر سلام کیا لیکن وہ محترمہ کوئی اور ہی نکل آئیں. تھیں بھی وہ گرمی کی ستائیں ہوئیں، میرے بلاوجہ کے سلام پر تھوڑی سی ناراض بھی ہو گئیں.

اس پہچان کے مسئلے پر غور ہو ہی رہا تھا کے دور وہ نظر آ گئی. تب زندگی میں پہلی بار احساس ہوا کے لاکھوں کا بھی ہجوم ہو تو اسکو کہیں سے بھی پہچان لوں. آج جب پہلی دفعہ اسکے چہرے پہ غور کیا تو جانا کے وہ اچھی خاصی شکل وصورت رکھتی ہے. حیرت ہوئی کے اتنے سال ساتھ گزارے لیکن کبھی اسکے چہرے کی طرف دھیان ہی نہیں گیا.

‘گاڑی کدھر ہے؟’، اس نے آتے ہی سوال داغا. ‘گاڑی نہیں تھی، ایک گاڑی ابو لے کر گئے ہوئے ہیں، اور دوسری بھائی، اسلئے سکوٹر پر آیا ہوں’. ‘اب میں تمہارے ساتھ کیا سکوٹر پر جاتی اچھی لگوں گی’، اس نے شکل بنائی. ‘اچھا خود ہی آ جانا محترمہ’، گرمی کی وجہ سے شاید میں بھی چڑچڑا ہو رہا تھا. اب جو اسکی طرف دیکھا تو احساس ہوا کے غلط کہہ دیا. پھر مجھے اسکو منانا پڑا. منتیں کرنی پڑیں کے چل پڑو. راستے میں تم کو آئسکریم بھی کھلا دوں گا بس تم چلو. بڑی مشکلوں اور بڑی منتوں کے بعد وہ مانی، وہ بھی اس شرط پر کے اگلا پورا ہفتہ کوئی نہ کوئی آئسکریم اسکو کھلانی پڑے گی. سارے جیب خرچ کو جاتے دیکھ کر دکھ تو بہت ہوا پر اور کوئی چارا بھی نہیں تھا.

گھر سے کوئی تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر موٹرسائیکل کے پہیے میں کوئی کیل چبھ گیا. نا کوئی دکان قریب نا کچھ اور، باقی کا سارا راستہ پیدل چلنا پڑا اور ساتھ میں اسکی جلی کٹی سننی پڑیں. گھر پہنچے تو ہمارے چہرے دھوپ کی وجہ سے ایسے سرخ ہو رہے تھے جیسے تربوز. ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر ہماری ہنسی نہ رکے. گھر داخل ہوئے تو بےجی اور آپا سے ٹاکرا ہو گیا، انہوں نے پہلے تو مجھے میری لاپرواہی پر لمبا لیکچر دیا، اسکے بعد اتنا ہنسیں وہ دونوں کے انکے پیٹ میں بل پڑ گئے. ایک دفعہ تو مجھے لگا کے ڈاکٹر صاحب کو بلانا پڑے گا لیکن الله نے بچا لیا. بڑی سبکی ہوتی اگر ایسا ہوتا. ان دونوں کی بھی منتیں کی کے کسی اور کو میری بیوقوفی کا مت بتا ئیے گا، سکوٹر کا پنکچر میں خود چپکے سے ٹھیک کروا لوں گا.

اس دن کے بعد اچانک اس سے رابطہ منقطع ہوگیا. پہلے پہل تو مجھے اس کا احساس نہیں ہوا پھر پتہ لگا کے اس دن جو مہمان آنے تھے، وہ اسکے رشتے کے لیے آئے تھے. یہ بات بھی مجھے اتفاق سے ایک ہفتے بعد رات کے کھانے پر پتہ چلی جب آپا اور بےجی اسکا رشتہ پکا ہونے کی خوشی میں آئے ہوئے گلاب جامن پر ہاتھ صاف کر رہے تھے. میرا ہاتھ گکاب جامن کی طرف بڑھ ہی رہا تھا لیکن رک گیا. پتہ نہیں اچانک سے ایسے لگا جیسے کچھ کھو گیا ہو. پہلے پہل تو سمجھ ہی نہیں آئی کے ہوا کیا ہے. جب رات کو میں اہنے کمرے میں بستر پر لیٹا تو آنسوؤں کا ایسا تانتا​ بندھا کہ سیلاب کی شکل اختیار کر گیا. بہت کوشش کی کہ رک جائے، بہت سمجھایا دل کو، پگلے ایسا کیا ہے، ایسا​ کچھ نہیں ہے، تجھے کیا ہو گیا ہے لیکن دل کی اداسی گئی ہی نہیں.

اگلی رات چاند کی تیرہویں یا چودہویں تاریخ تھی، اور میں باہر دالان میں گھاس پر لیٹا رہا. اوس بھی شاید پڑی ہوئی تھی پر مجھے کوئی احساس باقی ہی نا تھا. خالی آنکھوں سے بس خلا میں تک رہا تھا. یہی تو آسمان تھا جو میرا اپنا ہوا کرتا تھا، اسی سے ہے تو میں باتیں کیا کرتا تھا لیکن آج نا جانے کیوں یہ اچانک اتنا اجنبی سا لگ رہا تھا. ایک ایسا غم میری روح میں پنپ رہا تھا جس سے میں واقف بھی نہیں تھا. نظریں جب انکی کوٹھی کی جانب اٹھیں تو مجھے وہ سیڑھیوں میں بیٹی نظر آئی. دل کیا کے اسکو آواز دوں، کچھ کہوں لیکن میری ہمت نا ہوئی. بزدل تھا نا میں بچپن سے، اب کیسے بہادر ہو سکتا تھا. بےجی نے تو کہا تھا کہ میرے پر نکل آئے ہیں، کہ مجھے اڑنا آ گیا ہے، لیکن انکو کیا پتہ کے وہ پر میرے نہیں تھے، کسی کے دئیے ہوئے تھے. وہ پرواز میری نہیں تھی، کسی نے انگلی پکڑ کر اڑنا سکھایا تھا، اور آج ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ ہاتھ مجھ سے چھن گیا ہو.

آسمان پر اتنے تارے ہیں، کچھ سرخ، کچھ پیلے، کچھ نیلے – ہم بہت دیر تک آسمان کی طرف تکتے رہیں تو یہ سب رنگ آہستہ آہستہ واضح ہو جاتے ہیں. پہلی نظر میں سارا آسمان ایک سا ہی نظر آتا ہے، تھوڑی دیر توجہ رکھیں تو رنگوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا آغاز تو ہے اختتام نہیں. میرے سامنے بھی وہ کتنی دیر رہی تھی، اتنے ہی رنگ اس میں پہلے بھی تھے، آج سے ایک دن پہلے ان میں سے کسی رنگ سے بھی میں واقف نہیں تھا. آج اسکے تمام رنگ میری نظروں کے سامنے تھے. میرا دل چاہا میں دیوانہ وار چلاؤں، خدا سے لڑوں، آسمان سے جنگ کا اعلان کر دوں، زمین کھود کر اسکے درمیان تک پہنچ جاؤں. اگر یہ کائنات مجھے خوشی نہیں دے سکتی، تو اس کائنات میں بسنے والے کسی شخص کو بھی خوشی میسر نہ ہونے دوں. سب کو اپنی طرح دکھ کی چادر میں لپیٹ دوں، ہر ایک سے اسکی خوشی چھین لوں. سب میری طرح ہزن اور ملال میں جیئں، سب خوشیوں کو ترسیں، سب خوشیوں سے ایک بالشت دور رہیں – اس طرح کے انکی خوشیاں انکو نظر تو آئیں پر وہ انکو حاصل نا کر پائیں. سراب ہوں وہ خوشیاں، ہاتھ بڑھا کر چھونا چاہیں تو غائب، خواب ہوں وہ خوشیاں، نیند سے بیدار ہوں تو غائب. کیسی بے رنگ و بو تھی یہ کائنات، کیا مذاق کر رہی تھی میرے ساتھ. کیا بگاڑا تھا میں نے اسکا جو اس نے اچانک سے میرا سب کچھ چھین لیا.

میرے خیالات کا سلسہ شاید چلتا رہتا لیکن اسکی آواز نے مجھے چونکا دیا. دیکھا تو دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی. وہ چھوٹی سی دیوار جو ہمارے احاطے کو انکے احاطے سے الگ کرتی تھی. وہ چھوٹی سی دیوار جو بچپن میں ہم نے ہزاروں بار پھلانگی تھی. آج ایسے معلوم ہو رہا تھا جیسے یہ دنیا کی سب سے بڑی دیوار ہو، جیسے کوہ ہمالیہ کی بلند ترین چوٹی ہو. جب اسکے سامنے کھڑا ہوا تو مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ اس دنیا میں بسنے والے تمام باشندوں میں وہ سب سے مختلف تھی، منفرد تھی، بےمثال تھی، باکمال تھی. میں اسے بچپن سے دیکھتا آ رہا تھا، لیکن آج شاید زندگی میں پہلی بار اسکو ٹھیک سے دیکھا تھا. اور اب اسکو دیکھ نہیں پا رہا تھا. نظریں اسکے چہرے کا طواف کرنا چاہتیں تھیں لیکن دل اجازت دینے سے قاصر. یم دونوں دیوار پر ہاتھ رکھ کر کھڑے تھے، میرے ہاتھ اسکے ہاتھوں کے بالکل ساتھ تھے. یہ وہی ہاتھ تھے جن سے میری جان جاتی تھی، ان ہاتھوں نے مجھے بہت مکے اور تھپڑ مارے ہوئے تھے، ہم باقاعدہ لڑا کرتے تھے اور ہار ہمیشہ میری ہوتی تھی، اور آج یہ ہاتھ، جن ہاتھوں سے مجھے نفرت تھی، میری کل کائنات تھے.

ٹمٹماتے ہوئے بلب کی روشنی اسکے سر کے پیچھے سے اسطرح آرہی تھی کے اسکے چہرے کے گرد نور کا ایک ہالہ بن رہا تھا. ہلکی ہلکی ہوا سے اسکی لٹیں بکھر رہیں تھیں اور وہ بلکل چپ چاپ کھڑی تھی. خاموش میں بھی تھا لیکن میرے اندر ایک طوفان برپا تھا. جتنا شاید میں انجان رہا تھا، اتنی ہی وہ بھی انجان رہی تھی. ہم دونوں نے شاید کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا اور آج یم دونوں کس قدر مجبور تھے. اگر مجھے پتہ ہوتا کے اسکو دیکھنے کےلیے لوگ آ رہے ہیں تو میں جاتا ہی نہیں، یا اسکو لے کر کہیں اور چلا جاتا، کچھ کر دیتا لیکن شام سے پہلے اسے گھر نا پہنچاتا. کتنا عجیب سا مذاق کیا تھا قدرت نے ہمارے ساتھ. میں ہنس دیا. ‘کس بات پر مسکرا رہے ہو؟’ اس نے پوچھا. ‘کچھ نہیں، کچھ بھی تو نہیں’. کچھ کہنے کو تھا ہی کدھر. میں بھی خاموش تھا، اور وہ بھی چپ سادھ کے کھڑی رہی.

مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے ہمارے ساتھ پوری کائنات بھی خاموش ہے. کیاری میں لگے پھول خاموش ہیں، ان میں چھپ کر رہنے والی پریاں بھی خاموش ہیں، درخت خاموش ہیں، ان میں رہنے والے پرندے خاموش ہیں. ہر طرف ایک گہرا سکوت تھا. ایک پر حول سناٹا. ایک محیط تنہائی. مجھے نہیں معلوم ہم کتنی دیر ایسے ہی کھڑے رہے، نا کچھ کہا، نا بولا، نا بغاوت کی بات کی، نا گھر چھوڑنے کا ذکر کیا، نا جذبات کا اظہار کیا – فقط خاموشی. شاید اسکے کمرے کا گھڑیال بجا، اور وہ چلی گئی. آہستہ آہستہ میری نظروں سے دور. جہاں اس نے ہاتھ رکھا تھا، اس جگہ کو میں نے ہولے سے چھوا، اسکے لمس کا احساس اب بھی موجود تھا، اسکے وجود کی خوشبو اب بھی ویسے ہی تھی.

مجھے بہت آرزو تھی کہ میں چاند کو غروب ہوتے دیکھوں. کتنی ساری دعائیں کر کے سویا کرتا تھا کے مجھے چاند کو غروب ہوتے دیکھنا ہے. اس رات میں نے پہلی بار چاند کو غروب ہوتے دیکھا. سورج کے آنے سے پہلے فضا میں پھیلنے والی سفیدی کو دیکھا. ڈھلتے ہوئے چاند کو اسطرح الوداع کروں گا کبھی سوچا بھی نہیں تھا. اس صبح میں نے گھر والوں کو کہا تھا کے مجھے هوسٹل جانا ہے. سب ہی حیران ہوئے کہ ایسا کیا ہو گیا اچانک. پھر میری ضد کے آگے سب ہی نے بلآخر ہتھیار ڈال دیے.

یادوں کی فلم یہاں پر ختم ہوتی ہے. اس دن اور آج کے دن میں بہت فرق ہے. مجھے لگتا تھا کے آج کا میں ایک جہاں دیدہ انسان ہوں لیکن شاید ایسا نہیں ہے. مجھے اپنا وہ امریکی دوست یاد آ رہا تھا جو کہتا تھا اسکے زندگی کا مقصد صرف ہنسنا اور ہنسانا ہے. جب ہم ماؤنٹ کیلیمنجرو کے بیس کیمپ میں تھے تو وہ ساری رات باہر بیٹھ کر گٹار بجاتا. جس رات وہ بضد تھا کے آج سب جاگیں تو صرف میں نے ہی اسکا ساتھ دیا تھا. ساری رات اس نے کتنی مزے مزے کی کہانیاں سنائیں تھیں. رات کو چلںے والی ہوائیں پہاڑ سے ٹکرا کر اس طرح کی آواز نکالتیں تھیں کہ لگتا تھا کے کوئی آوازیں دے رہا ہو. اسکا کہنا تھا کے یہ پریوں کی صدائیں ہیں، اسکے مطابق پریوں کی ایک دنیا آباد تھی جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے. میں کتنا ہنستا تھا اس پر، اسکو کہتا تھا ایسی سوچ صرف بچپن میں اچھی لگتی ہے انسان پر، جوانی اور بڑھاپے میں نہیں. ‘تم اور میں، ہم دونوں بچے ہی ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ تم اپنے اندر کے بچے کو بھول چکے ہو اور میں بھلانا نہیں چاہتا’، وہ بولا تھا. پھر صبح کے قریب زندگی سے بھرپور انسان دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا. ایسا کیا ہوا جو تم رو رہے ہو میں نے اس سے پوچھا تھا. ‘آج میں تمہیں ایک راز کی بات بتاتا ہوں، یہ جو میرا دل ہے نہ، اس دل کی وحشت نہیں جاتی’، تب اس نے کہا تھا، ‘کچھ بھی کر لوں، یہ وحشت ہے کے جانے کا نام ہی نہیں لیتی’۔ ‘تمہارا گھر ہے، بیوی ہے بچے ہیں، جاؤ ان جے پاس واپس جاؤ’، میں بولا تھا. ‘بوائے، غلط مت سمجھنا، میں دکھی نہیں ہوں، میں صرف تلاش میں ہوں، کس چیز کی تلاش ہے، یہ مجھے بھی معلوم نہیں’، یہ کہہ کر اس نے پھر گٹار اٹھایا اور بجانا شروع کر دیا. کچھ لمحے پہلے اس کے چہرے پر کرب کا سمندر تھا، اب ایسے پرسکون جیسے کچھ ہوا ہی نہیں. طلاطم کے آثار بھی باقی نہیں. کچھ بھی تو نہیں. وہی مسکراہٹ، وہی سکون.

کتابوں کی الماری سے وہ ناول ڈھونڈ نکالا جس میں گلاب کاپھول رکھا تھا۔ میرا دل بھی اس گلاب کے پھول کی مانند وقت کے بہتے دھارے میں رکا ہوا تھا۔ایک لمحے کی قید میں منجمد۔ میں نے کھڑکی سے ان کی کوٹھی کی دیوار کی جانب دیکھا٬وہ ٹمٹماتا سا بلب اب بھی اسی طرح روشن تھا،احاطے کی دیوار اب بھی اس ہی طرح قائم تھی۔ یہ میرا گھرتھا، لیکن شاید یہ میرا گھر نہیں تھا۔ آنے سے پہلے سوچا تھا کہ واپس جا کر خود پر بہت ہنسوں گا۔ شاید اس سے جا کر ملوں بھی، اس کو ستاؤں گا، اس سے اس ہی طرح باتیں کروں گا جیسے پہلے کرتا تھا، اس سے شکایت کروں گا کہ اس نے مجھے کبھی کوئی خط نہیں لکھا، اسکے بچوں کو پیار کروں گا، اس کے لیے میں نے پتہ نہیں کدھر سے ایک نارنجی رنگ کی شال لی تھی، پوری کی پوری شال نارنجی تھی اور اس کو نارنجی رنگ زہر لگتا تھا، سوچا تھا اس کو وہ شال دے کر اس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لوں گا۔ لیکن اب یہ سب کچھ ناممکن محسوس ہو رہا تھا۔ میں آج بھی اتنا ہی بزدل تھا اور فرار واحد راستہ۔ یاتری تمام عمر کسی ایک جگہ کی یاترا کرنے کی تمنا اپنے دل میں رکھتے ہیں​ لیکن کبھی وہاں ٹھہر نہیں پاتے۔ اپنے من کی مراد پوری کرتے اور پھر رخصت ہو لیتے۔ ایک مقدس سفر بھی سفر ہی ہے، مسافر کو ہر حال میں لوٹنا ہی پڑتا ہے ۔ یہ میری ذات کی یاترا تھی، اور رات کے اس پہر بھی مجھے اندازہ ہو چلا تھا کہ میں یہاں ٹھہر نہیں سکتا۔ مجھے یہاں سے جانا تھا، ابھی، فوراً، رات کے اسی پہر، اسی وقت، سب کو بتائے بنا۔ اب میں ایک یاتری ہوں، اور شاید ہمیشہ رہوں گا، اور یاتری کبھی رکا نہیں کرتے۔

The featured image is taken by Muhammad Usman. To see more of his work, visit his Instagram @totallytrashed

so to say all good things in life are free tweets as @me_crs
Like
Like Love Haha Wow Sad Angry
3453
This Article Has 25 Comments
  1. RR says:

    Way to go potato. Khoobsorat andaz e biyaan 👍

  2. AISHA BUTT says:

    نہایت خوبصورتی سے لکھی گئی اس قسط کو پڑھتے ہوئے کچھ دیر کے لئے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ان ساری . باتوں کا حصہ ہوں❤

  3. کچھ بھی says:

    بہت خوبصورت منظر کشی.

  4. Hamail Khanum says:

    Effortless. So beautifully descriptive.

    مزہ آگیا۔ اگلی قسط کا انتظار ہے اب۔

  5. Maheen Khan says:

    Tehreer jitni saada hay, utni hi girift main lenay waali.

  6. Rabia Sheikh says:

    So beautiful 🙂 Reminds me of childhood days when we used to read those beautiful Urdu stories in school. <3
    Waiting for the next part <3

  7. AISHA BUTT says:

    Honestly!! Im speechlees ❤ This is so so so beautiful !! Specially last words *یاتری کبھی رکا نہیں کرتے* ❤ #Nostalgia

  8. Khadija Batool says:

    بہت عرصے بعد اردو میں کوئی تحریر پڑھی اور وہ اتنے سادہ لفظوں میں اتنی خوبصورتی سے لکھی ہوئی۔ ❤️

  9. benish rao says:

    stream of conciousness…. bht achi thi .leaves the reader very much in the middle of internal chaos similar to everyone’s life. where everyone seems a happy go lucky but has dealing with mess.

  10. Omar Ibn e Ali says:

    MashaAllah boht khubsoorat tehreer

  11. Mariyam says:

    Ab main kia bolun ? Aj yaqeen hogaya. Ek acha musannif , zabaan ka muhtaj nahe hota.

  12. Sumera Khizar says:

    This is heartbreakingly beautiful. ❤ Writer got a real talent to describe everything in a beautiful way.

  13. Yumna says:

    Literally teared up at a few bits.

  14. Sumbul says:

    Beautiful. Made me fall in love with Urdu again.

  15. So incredibly beautiful! ❤️

Leave a Reply